‘ذیابیطس کے مرض میں ٹانگ کٹوانا جان لیوا ہوسکتا ہے’: بی آئی ڈی ای کے زیرِ اہتمام کانفرنس کا انعقاد  

کراچی میں ذیابیطس اور اس سے ہونے والی پیچیدگیوں سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم اور ان کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت آنا محض معذوری کا مسئلہ نہیں بلکہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایسے تقریباً نصف مریض تین سال جب کہ 70 فیصد پانچ سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں، جبکہ پاؤں یا ٹانگ کا کچھ حصہ یا مکمل طور پر کاٹے جانے کے بعد اموات کی شرح بعض کینسرز کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔

کراچی میں منعقدہ ’انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈائبیٹیز اینڈ ڈائبیٹک فُٹ‘ میں ماہرین نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم، اعصابی پیچیدگیوں، خون کی شریانوں کی بیماریوں اور پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی صورت حال سے متعلق اعدادوشمار پیش کیے۔

معروف اینڈوواسکولر ماہر ڈاکٹر فہد طارق نے مختلف بیماریوں میں پانچ سالہ شرح اموات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم کے شکار مریضوں میں پانچ سال کے اندر اموات کی شرح بعض کینسرز، جن میں بریسٹ کینسر بھی شامل ہے، کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ان کے مطابق پاؤں یا ٹانگ کا معمولی حصہ کاٹے جانے، جسے ’مائنر ایمپیوٹیشن‘ کہا جاتا ہے، کے بعد پانچ سال میں شرح اموات 40 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ بڑی سطح پر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے یعنی میجر ایمپیوٹیشن کے بعد نصف سے زیادہ مریض پانچ سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس بلند شرح اموات کی وجہ صرف پاؤں کا زخم یا انفیکشن نہیں، بلکہ ایسے مریضوں میں پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز (PAD)، امراض قلب اور خون کی شریانوں کی دیگر سنگین بیماریاں بھی عام ہوتی ہیں۔ یہ بیماریاں ہارٹ اٹیک، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔

بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی (BIDE) کے پروفیسر زاہد میاں نے بتایا کہ پاکستان میں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً تین لاکھ افراد کے پاؤں یا ٹانگیں کاٹنے کی نوبت آتی ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ ملک میں اوسطاً ہر گھنٹے 34 افراد ذیابیطس کے باعث اپنے پاؤں یا ٹانگ سے محروم ہو رہے ہیں۔

پروفیسر زاہد میاں نے کہا کہ ذیابیطس کے باعث پاؤں یا ٹانگ کا کاٹا جانا صرف معذوری کا مسئلہ نہیں بلکہ مریض کی زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔ پاکستان میں پاؤں یا ٹانگ گنوانے والے تقریباً نصف مریض تین سال جبکہ 70 فیصد پانچ سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔

کانفرنس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 79 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد ہے، جبکہ ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخموں کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کے 43.2 فیصد مریض ڈائبیٹک پیریفرل نیوروپیتھی کا شکار ہیں۔ نئے تشخیص ہونے والے مریضوں میں بھی اس پیچیدگی کی شرح 26.5 فیصد ہے، جبکہ پانچ سال سے زائد عرصے سے ذیابیطس میں مبتلا افراد میں یہ شرح بڑھ کر 56.8 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ پیریفرل نیوروپیتھی کے باعث پاؤں کی حس کم یا ختم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو چوٹ، چھالے یا زخم کا بروقت احساس نہیں ہوتا۔ اگر ایسے مریض کو پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز بھی لاحق ہو تو پاؤں میں خون کی ناکافی فراہمی کے باعث زخم کے مندمل ہونے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں انفیکشن، گینگرین اور بالآخر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

پروفیسر زاہد میاں کے مطابق پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص، پاؤں کی باقاعدہ دیکھ بھال، انفیکشن کا فوری علاج اور خون کی شریانوں میں خون کی روانی بحال کرکے بڑی تعداد میں مریضوں کو پاؤں یا ٹانگ سے محروم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

کانفرنس کے پلینری سیشن میں پروفیسر نجمل اسلام، پروفیسر جاوید اکرم، پروفیسر جمیل احمد، پروفیسر ایرک سینی ویل اور پروفیسر بیکھا رام سمیت ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔

پیریفرل نرو ڈس آرڈرز کے سیشن میں ڈاکٹر سائمہ عسکری، ڈاکٹر سہیل چغتائی، ڈاکٹر صومیہ اقتدار، پروفیسر افتخار علی شاہ، ڈاکٹر زاہد علی فہیم اور پروفیسر بشیر اے سومرو سمیت دیگر ماہرین شریک ہوئے۔

ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں میں خون کی شریانوں کے علاج سے متعلق خصوصی سیشن میں پروفیسر کمال یوسف، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر نعمان القمری، ڈاکٹر وریام صالح، ڈاکٹر عمار پیرزادہ، ڈاکٹر فہد میمن اور ڈاکٹر رضوان خان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر فہد طارق نے اسی سیشن میں جدید اینڈوواسکولر طریقوں کے ذریعے متاثرہ پاؤں اور ٹانگوں کو کاٹنے سے بچانے کے موضوع پر اپنی پریزنٹیشن دی۔

بین الاقوامی ماہر پروفیسر ذوالفقار جی عباس نے کہا کہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد ذیابیطس کے مریض کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں، جہاں بیماری اور اس کی پیچیدگیوں کا بوجھ دستیاب وسائل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 سال قبل عالمی سطح پر خبردار کیا گیا تھا کہ ذیابیطس کے باعث ہر 30 سیکنڈ میں ایک پاؤں ضائع ہو رہا ہے، تاہم طبی سائنس میں نمایاں پیش رفت کے باوجود ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم اب بھی دنیا، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا طبی مسئلہ ہیں۔

کانفرنس میں پروفیسر فرانسس گیم، پروفیسر روبرٹو اینی چینی، پروفیسر ضیاء الرحمان، پروفیسر ایرک سینی ویل، ڈاکٹر سلمیٰ خریبط اور دیگر ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے بھی ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں، نیوروپیتھی، پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز، انفیکشن، زخموں کے علاج اور پاؤں یا ٹانگ کاٹنے سے بچانے کے جدید طریقوں پر اظہار خیال کیا۔

پروفیسر زاہد میاں نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں میں مبتلا مریضوں کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن 03306666774 شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق پاؤں میں زخم، السر یا انفیکشن کی صورت میں مریض فوری طبی رہنمائی حاصل کر سکیں گے تاکہ علاج میں تاخیر کے باعث پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت نہ آئے۔

انہوں نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں کی روک تھام اور علاج کے لیے ملک کا پہلا دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس پروگرام کا پہلا بیچ جنوری 2027 میں شروع ہوگا، جس کا مقصد ایسے تربیت یافتہ طبی ماہرین تیار کرنا ہے جو بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے مریضوں کے پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچانے میں کردار ادا کر سکیں۔

پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے بانی صدر پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان کو ذیابیطس کے علاج کے ساتھ ساتھ اس کی پیچیدگیوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق بے قابو ذیابیطس امراض قلب، گردوں کی ناکامی، نابینا پن، ہارٹ اٹیک، فالج اور پاؤں یا ٹانگ کاٹنے سمیت متعدد سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے۔

کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ ذیابیطس کے مریض کے پاؤں پر بظاہر معمولی زخم بھی بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں شدید انفیکشن اور گینگرین میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مریضوں میں آگاہی، بروقت علاج اور مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ طبی نظام کے ذریعے ہزاروں پاؤں اور زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔