ماہی گیروں نے وزیر داخلہ انیتا کی گاڑی ان کے حلقے میں روک دی

آندھرا پردیش کی وزیر داخلہ ونگلاپوڈی انیتا کو اپنے ہی حلقے میں شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ۔ مقامی ماہی گیر اناکاپلی ضلع کے نکاپلی منڈل کے راجیاپیٹا میں مجوزہ بلک ڈرگ پارک کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ۔ پیر کو وزیر انیتا کے قافلے کو روکنے کے بعد گاؤں میں کشیدگی پیدا ہو گئی ۔

پچھلے 16 دنوں سے راجیاپیٹا کے ماہی گیر بلک ڈرگ پارک کے خلاف احتجاجی کیمپ میں احتجاج کر رہے ہیں ۔ انہیں افسوس ہے کہ پارک کے قیام سے ان کی ساحلی پٹی آلودہ ہو جائے گی ، جس سے نہ صرف ان کی ماہی گیری کی روزی روٹی کو نقصان پہنچے گا بلکہ ان کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہو گا ۔ انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ “پھانسی بلک ڈرگ پارک سے بہتر ہے” ۔

اس حکم میں ، مقامی لوگوں نے غیر متوقع طور پر وزیر انیتا کے سامنے احتجاج کیا جو دھرنا کیمپ کا دورہ کرنے آئی تھیں ۔ راستے میں درخت کاٹ کر اس کے دستے کو روک دیا گیا ۔ وزیر کو اپنی گاڑی سے اتر کر مظاہرین سے بات کرنی پڑی ۔ وہ اس منصوبے کو مشرقی گوداوری سے اپنے علاقے میں منتقل کرنے پر ناراض تھے ۔

ماہی گیروں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے وزیر انیتا نے یقین دلایا کہ وہ ان کے مطالبات حکومت کے نوٹس میں لائیں گی ۔ اس معاملے کو دیکھنے اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ تاہم ماہی گیر وزیر کی یقین دہانی سے مطمئن نہیں تھے ۔ معائنہ نہیں بلکہ کمیٹیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنی لڑائی نہیں روکیں گے جب تک کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر منسوخ نہیں ہو جاتا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو احتجاج مزید تیز کیا جائے گا ۔ اس واقعے کے ساتھ ، اناکاپلی ضلع میں بلک ڈرگ پارک کا مسئلہ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے ۔